Breaking News
Home / پاکستان / چینی شہریوں سے رشوت لینے والےوزارت داخلہ کے افسر کیخلاف فوجداری کارروائی شروع

چینی شہریوں سے رشوت لینے والےوزارت داخلہ کے افسر کیخلاف فوجداری کارروائی شروع

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) وزارت داخلہ نے وزارت کے اندر بدعنوانی کیخلاف جاری مہم کے دوران اپنے افسر سے کی خدمات واپس کردیں جو مبینہ طور پر درجنوں چینی شہریوں سے ایگزٹ پرمٹ کے اجرا کے بدلے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے کی رشوت لینے میں ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق جوائنٹ سیکریٹری خالد رسول کی خدمات کو نا اہلی، رشوت اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اختیار میں دے دیا گیا

جبکہ ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کیلئے تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو تفویض کردی گئی ہیں۔وزارت داخلہ خالد رسول کے محکمے وزارت کامرس کے درمیان ہونے والے رابطے کے مطابق سرکاری افسر پر اس پر الزام ہے کہ انہوں نے 44 چینی باشندوں کو ایگزٹ پرمٹ کے اجرا کے لیے ان سے فی کس ڈھائی لاکھ روپے لیے۔خالد رسول پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے مختلف کمپنیوں کے نام استعمال کر کے جعلی دستاویزات پر انہی چینی شہریوں کا ویزا بھی بڑھایا۔ان پر پاکستان میں کام کرنے والے آئی این جی او انٹرنیشنل کیتھولک مائیگریشن کمیشن (آئی سی ایم سی) کو مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے ذریعے سہولت فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ اسٹیک ہولڈرز ای اے ڈی، آئی ایس آئی اور آئی بی نے ان کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ڈان کو دستیاب خط کی نقل میں کہا گیا کہ نکتہ نمبر 1۔آئی کے حوالے سے وزارت خارجہ اور اور آئی ایس آئی نے وزارت کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان میں چینی سفارت خانے کے کونسلر نے ڈی جی، چین، وزارت خارجہ کو بتایا کہ اس وقت کے ایف آئی اے کے جوائنٹ سیکریٹری خالد رسول نے 44 چینی شہریوں کو ایگزٹ پرمٹ دینے کے لیے ان سے فی کس ڈھائی روپے وصول کئے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کو فوجداری کارروائی کے لیے تفتیش کا کام سونہ دیا گیا ہے اور جعلی ویزا میں توسیع اور مشکوک سرگرمیوں کی حامل کسی آئی این جی او کو سہولت دینے سمیت مزید دو الزامات کے بارے میں بھی تفتیش کی جائے جس میں خالد رسول کا کردار نظر آ رہا ہے۔

مذکورہ چارجز پر غور کرتے ہوئے افسر کی خدمات وزارت اطلاعات سے لے کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کردی گئی ہیں، اس حوالے سے سختی سے سفارش کی جاتی ہے کہ مذکورہ افسر کو مالی خود مختاری/ رازداری سے متعلق حساس کاموں سے دور رکھا جائے، مذکورہ بالا کے پیش نظر وزارت تجارت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ای اینڈ ڈی رولز 2020 کے تحت نا اہلی، رشوت یا بدعنوانی کی وجہ سے افسر کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرے۔چارج شیٹ میں لکھا گیا ہے کہ آپ سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور نظم و ضبط 2020 کے ضابطہ 3 کے تحت تادیبی کارروائی کے ضمرے میں آتے ہیں جس میں قواعد 4 کے تحت ملازمت سے برخاستگی کی پینالٹی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ملزم سے اپنے دفاع میں تحریری بیان داخل کرنے کو کہا گیا ہے جس میں اس سے یہ پوچھا گیا ہے کہ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی جانی چاہیے۔اس سے قبل وزارت نے نجی کمپنی سے بلیٹ پروف گاڑی کے لیے این او سی جاری کرنے کے لیے ایک لاکھ 80 ہزار روپے رشوت طلب کرنے کے الزام میں اپنے سیکشن آفیسر (سول ڈیفنس) کی خدمات واپس کردیں۔اس کے علاوہ سی ڈی اے کے امور سے نمٹنے والے ایک اور سیکشن آفیسر کی خدمات بھی کچھ ماہ قبل واپس کردی گئی تھیں۔

Share

About admin

Check Also

عید ختم، ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال

اسلام آباد ..این سی او سی کی جانب سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد ملک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com