Breaking News
Home / کہانیاں / شادی کے چار مہینے بعد ہی اس کو طلاق ہو گئی وہ حاملہ تھی جبکہ اس کا شوہر اس پر شک کرتا تھا

شادی کے چار مہینے بعد ہی اس کو طلاق ہو گئی وہ حاملہ تھی جبکہ اس کا شوہر اس پر شک کرتا تھا

میں نے پتہ نہیں کون سا گ ن ا ہ کیا تھا جس کی س ز ا تمہاری صورت میں مجھے ملی ہے مدثر اپنی بیوی کو گالیاں دے رہا تھا غزالہ چارپائی پہ بیٹھی ہوئی روتے ہوئے بولی مدثر پلیز آپ گالیاں نہ دیں مجھے میں نے کیا ہی کیا ہے

آپ ہر روز میرے ساتھ جھگڑا کر تے ہیں مدثر چاہتے کیا ہیں آپ مدثر الفاظ کی آ گ بر ساتے ہوئے بو لا چاہتا ہوں کہ میں تم کو طلاق دے دوں بس تم سے میری جان چھوٹ جا ئے غزائلہ روتے ہوئے بولی مدثر میں ماں بننے والی ہوں کچھ رو رحم کرو مجھ پہ مدثر نے منہ پہ تھپڑ مارا بھاڑ میں جاتوں اور تیرا بچہ وہ بچہ میرا نہیں ہے۔ تم ایک گندی عورت ہو غزالہ چپ ہو گئی و اہ مدثر واہ۔ کیا مردانگی دکھائی ہے تم نے کلمہ پڑھ کر ہم

دونوں نے ایک دوسرے کو قبول کیا تھا اور یہ صلہ دے رہے ہو مجھے کہ گندی عورت کہہ رہے ہو جب کہ خود کسی لڑکی کے ساتھ یاری لگا ئی ہوئی ہے اس سے شادی کر نا چاہتے ہو۔ اس لیے بس ذلیل کر رہے ہو مجھے مدثر چلا کر بو لا ہاں کرنے لگا ہوں دوسری شادی جاؤ تم سے جو ہوتا ہے کرو۔ دفعہ ہو جا میرے گھر سے ک م ی ن ی عورت غزالہ کی آنکھوں میں بے بسی کی انتہا تھی کا نپتی آواز میں بو لی مدثر اللہ پاک کا واسطہ ہے مجھے طلاق نہ دینا تو دوسری شادی کر لے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن مجھے ط ل ا ق نہ دینا میں میں

تم سے خرچہ بھی نہیں مانگوں گی خود کما کر اپنا پیٹ پال لوں گی مجھے طلاق نہ دینا مدثر غصے سے تین بار ط ل ا ق بول کر غزانہ کو دھکے دینے لگا غزانہ۔ چیخ چیخ کر ر و نے لگی کتنا عجیب تما شہ ہے دنیا کا عورت مکار ہو شیار ہو جیسی بھی ہو وہ مرد کے جوتوں کی خاک رہتی ہے مرد برا ہو کر بھی برا نہیں ہوتا عورت بری ہو کر ط و ا ئ ف بن جا تی ہے میں نے دیکھا ہے بہت ہو شیار اور مکار عورتوں کو چند پیسوں کے عوضبکتے ہوئے خیر۔ غزالہ۔ اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی جا کر ق ی ا م ت کا بر پا ہو نا

لفظ لفظ سنا یا ماں باپ کیا کر سکتے تھے بلا اب تو ط ل ا ق ہو چکی تھی اب کوئی راستہ باقی تھا ہی نہیں پیٹ میں چار ماہ کا بچہ تھا زندگی نے زور دار طما نچہ منہ پہ دے مارا تھا غزالہ کے بھائیوں کو پتہ چلا وہ کہنے لگے تم اس کے سامنے زبان نہ لڑاتی چپ رہتی۔ غزالہ آنسو صاف کرتے ہوئے بو لی بھائی جان میں جانتی ہوں اب عمر بھر ایک غلامی میری منتظر ہے۔

کبھی اپنوں کے طعنے تو کبھی غیروں کی ب د ک ل ا م ی ۔ میری زندگی اب ایسے ہی گزرے گی ہاں بھائی میں ہی غلط تھی میں نے مان لیا غزالہ کے بھائی غصے سے بولے دیکھا ابا یہ ہے ہی بد تمیز باپ نے لمبی سانس لی کھانستے ہوئے بو لا میری تی رانی توں چپ کر جا تیرے بھائی ہیں ہی بے غیرت غزالہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی با با جان میں کب کوئی شکوہ کر رہی ہوں۔ ایک زندگی بر باد کر آئی ہوں ۔ اب کیا فرق پڑتا ہے کوئی گالی دے یا رسوا کر ے۔

About admin

Check Also

آج میں آپ کو ایک ایسے باپ کی کہانی بتاؤں گا

پرانے زمانے میں لوگ بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے تھے آج میں آپ کو ایک ایسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com