Breaking News
Home / پاکستان / مفتی تقی عثمانی نے فحاشی اور بے پردگی سے متعلق وزیراعظم کے بیان کی حمایت کردی

مفتی تقی عثمانی نے فحاشی اور بے پردگی سے متعلق وزیراعظم کے بیان کی حمایت کردی

کراچی (نیوز ڈیسک)شریعت کورٹ کے سابق جج اور مشہور عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی نے پردے سے متعلق وزیر اعظم کے بیان کی حمایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فحاشی اور بے پردگی کے بارے میں جناب عمران خان نے جو بات کہی ہے وہ یقیناً سچ ہے اور پہلی بار کسی وزیراعظم کے منہ سے ایس بات نکلی ہے۔مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی بات کی پوری تائید ہر حقیقت پسند کو کرنی چاہیئے ، تاہم مغرب کا اس لحاظ سے سڑا ہوا معاشرہ اس پر برا مانے تو مانا کرے

لیکن حیرت ان مسلمانوں پر ہے جو اس پر تنقید کررہے ہیں۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی جانب سے گزشتہ دنوں خواتین کے پردے کے حوالے سے دیے گئے متنازعہ بیان پر ان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا ، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں جمائما خان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ عمران خان کے بیان کی غلط تشریح کی جا رہی ہے، کیونکہ میں جس عمران خان کو جانتی ہوں وہ کہتے تھے کہ مردوں کی آنکھوں پر پردہ ڈالنا چاہیئے۔اس موقع پر جمائما خان نے قرآن پاک کی آیت کا بھی حوالہ دیا اور لکھا، “مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں”۔واضح رہے کہ
اپنے ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فحاشی کے خاتمے کیلئے طیب اردوان کو کہہ کر ترکی کے ڈرامے پاکستان میں لے کر آیا ہوں ، وہ اتوار کو براہ راست فون کالز کے ذریعے عوام کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔حیدرآباد سے ایک شہری کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم تیزی سے پھیل رہے ہیں اور جتنے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے ، ہم نے اس حوالہ سے سخت قانون سازی کی ہے لیکن جس طرح کرپشن صرف قانون بنانے سے ختم نہیں ہو گی اسی طرح جنسی جرائم کے خلاف بھی پورے معاشرے کو مل کر لڑنا ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ جب معاشرے میں فحاشی بڑھ جائے تو اس کا اثر سامنے آتا ہے،

اسلام نے اسی لئے پردے کا تصور دیا ہے، فحاشی بڑھنے سے خاندانی نظام متاثر ہوا ہے، یورپ میں طلاق کی شرح 70 فیصد ہو چکی ہے، بالی وڈ نے ہالی وڈ کی پیروی کی جس کی وجہ سے دہلی کو ’’ریپ کیپٹل‘‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں پردے کا تصور خاندانی نظام کے تحفظ کیلئے ہے ، موبائل فون کے ذریعے بچوں کی ہر طرح کے مواد تک رسائی ہے، ہمیں اپنے معاشرے کو مغربی اور بھارتی ڈراموں اور فلموں کے برے اثرات سے بچانا ہے، میں طیب اردوان کو کہہ کر ترکی کے ڈرامے پاکستان میں لے کر آیا ہوں، ہمارے فلمساز اور ڈرامہ نگار کہتے تھے کہ وہ جو کچھ دکھا رہے ہیں لوگ وہی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اب ترکی کے جو ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں وہ بہت مقبول ہیں۔

About admin

Check Also

’’ مجھے عمران خان کی وجہ سے یہ کام کرنا پڑا ‘‘ چوہدری نثار کھل کر بول پڑے، ناقابلِ یقین انکشاف کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے منحرف رہنما چوہدری …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com