Home / آرٹیکلز / دولت ایک ایسی تتلی ہے جسے پکڑتے پکڑتے آدمی اپنوں سے بہت دور نکل جاتا ہے

دولت ایک ایسی تتلی ہے جسے پکڑتے پکڑتے آدمی اپنوں سے بہت دور نکل جاتا ہے

دولت ایک ایسی تتلی ہے جسے پکڑتے پکڑتے آدمی اپنوں سے بہت دور نکل جاتا ہے۔سبق سکھانہ سکی جو عمر بھر کی تمام کتابیں مجھے پھر قریب سے کچھ چہرے پڑھے اور نہ جانے کتنے سبق سیکھ لیئے۔ دشمنوں کی نفرت کا خوف نہیں ہے مجھے بس ڈرتا ہوں تو اپنے دوستوں کی وفاسے۔کچھ لوگوں کو جتنا بھی اپنا بنا لو مگر وہ ثابت کر ہی دیتے ہیں کہ وہ غیر ہی ہیں۔

اگر آپ دنیا میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو پہلی ناکامی کا استقبال کرنے کا حوصلہ پیدا کرو۔لوگ زندگی میں ہار جاتے ہیںاس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی سنتے ہیں مگر خود کو نظر انداز کردیتے ہیں۔بعض لوگ ساری زندگی صحیح چیزیں چنتے چنتے ایک بار غلط چیز چن لیتے ہیں اور یہ ایک غلطی ان کی باقی زندگی کا روگ بن جاتی ہے۔بڑے عجیب دنیا کے میلے ہیں دکھتی تو بھیڑ ہے پر چلتے سب اکیلے ہیں۔دوسری کے لئے اچھا سوچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے راستے بنا دے گا اور مشکلیں آسان کردے گا۔لباس قیمتی ہو یا سستا کردار کو نہیں چھپا سکتا تم بس اپنے کردارکو ٹھیک کر لو ہر لباس میں اچھے لگو گے۔توبہ کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے سیدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : اتباعِ نفس سے اجتناب کرتے ہوئے اس میں یکسوئی اختیار کر لو پھر اپنا آپ،

حتیٰ کہ سب کچھ اﷲ کے سپرد کر دو اور اپنے قلب کے دروازے پر اس طرح پہرہ دو کہ اس میں احکاماتِ الٰہیہ کے علاوہ اور کوئی چیز داخل ہی نہ ہو سکے اور ہر اس چیز کو اپنے قلب میں جاگزیں کر لو جس کا تمہیں اﷲ نے حکم دیا ہے اور ہر اس شے کا داخلہ بند کر دو جس سے تمہیں روکا گیا ہے اور جن خواہشات کو تم نے اپنے قلب سے نکال پھینکا ہے ان کو دوبارہ کبھی داخل نہ ہونے دو۔حضرت سہل بنعبد اللہ تستری علیہ الرحمۃ نے فرمایا : توبہ کا مطلب ہے قابلِ مذمت افعال کو قابلِ ستائش افعال سے تبدیل کرنا اور یہ مقصد خلوت اور خاموشی اختیار کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ مذکورہ بالا تعریفات کی روشنی میں توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت میں جو کچھ مذموم ہے اسے چھوڑ کر ہدایت کے راستے پر گامزن ہوتے ہوئے، پچھلے تمام گناہوں پر نادم ہو کر اﷲ سے معافی مانگ لے کہ وہ بقیہ زندگی اﷲ کی مرضی کے مطابق بسر کرے گا

اور گناہوں کی زندگی سے کنارہ کش ہو کر اﷲ کی رحمت و مغفرت کی طرف متوجہ ہو جائے گا اس عہد کرنے کا نام توبہ ہے۔ندامتِ قلب کے ساتھ ہمیشہ کے لئے گناہ سے رک جانا توبہ ہے جبکہ ماضی کےگناہوں سے معافی مانگنا استغفار ہے۔ توبہ اصل ہے جبکہ توبہ کی طرف جانے والا راستہ استغفار ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے سورہ ھود میںتوبہ سے قبل استغفار کا حکم فرمایا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے : سو تم اس سے معافی مانگو پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ بیشک میرا رب قریب ہے دعائیں قبول فرمانے والا ہے گویا گناہوں سے باز آنا، آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرنا اور صرف اﷲ کی طرف متوجہ ہونا توبہ ہے جبکہ اﷲ سے معافی طلب کرنا، گناہوں کی بخشش مانگنا اور بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری کرکے اپنے مولا کو منانا استغفار ہے۔ہمہ وقت گناہوں سے پاک رہنا فرشتوں کی صفت ہے۔ ہمیشہ گناہوں میں غرق رہنا شیطان کی خصلت ہے۔

جبکہ گناہوں پر نادم ہوکر توبہ کرنا اور معصیت کی راہ چھوڑ کر شاہراہِ ہدایت میں قدم رکھنا اولادِ آدم علیہ السلام کا خاصہ ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ اس کی فطرت میں موجود اعلیٰ تربلند مقامات اور جاہ و منصب تک جانے کی خواہش کی آڑ میں اسے مرتبہ انسانیت سے گرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لئے اس نے مومن بندوں کو قیامت تک گمراہ کرنے کی قسم کھائی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About admin

Check Also

بوسہ بیوی کو اندر تک جھنجھوڑ دیتا ہے

میں دعوے سے کہتا ہوں رات سونے سے پہلے اگر بیوی کی پیشانی پر بوسہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com