Breaking News
Home / اسلامک واقعات / سائنسدان زم زم کا معجزہ غلط ثابت کرنے چلے تھے ، جب انہوں نے آبزم زم کےکنویں میں 400فٹ اندرتک کیمرہ بھیجا تو پھر کیا معجزہ دیکھا

سائنسدان زم زم کا معجزہ غلط ثابت کرنے چلے تھے ، جب انہوں نے آبزم زم کےکنویں میں 400فٹ اندرتک کیمرہ بھیجا تو پھر کیا معجزہ دیکھا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ہر سا ل تقریباً 30لاکھ سے زائد حجاج کرام فریضہ حج ادا کرنے مکہ مکرمہ آتے سیر ہوکر آبِ زم زم پیتے ہیں۔بوتلیں بھر بھر کر اپنے ساتھ مقدس نشانی لے جاتے ہیں اسے پینے والے بھی اسے پُر تاثیر پاتے ہیں ان کی تھکن دور ہوتی ہے اور حیرت انگیز تازگی کا احساس بھی ہوتا ہے ۔کہنے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ انہیں دنیا کے بہترین پانی میں بھی زم زم جیسا ذائقہ اوراثر نہیں ملتا بہت ممکن ہے کہ ہر چیز عقلی دلیل تلاش کرنے والے لوگ اسے دوسروں کی مخصوص نفسیاتی کیفیت یا عقیدت مندی سے پیدا ہونے والے رحجان کا فطری نتیجہ قرار دے دیں آبِ زم زم کا معجزہ صرف اس کی کیمیائی ترکیب ذائقے اور تاثیر تک ہی محدود نہیں کچھ اور اہم خصوصیات بھی اس آبِ مقدس کے ساتھ وابستہ ہے ۔ آج ہم آپ کو آبِ زم زم سے منسلک معجزات سے روشناس کروائیں گے ۔ اسلامی تاریخ کا مطالع بتاتا ہے چاہے آب ِ زم زم کنواں حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت ہاجرہ کے شیر خوار بیٹے کی پیاس بجھانے کی خاطر لگ بھگ چار ہزار سال قبل معجزہ طور پر رب کریم نے مکہ مکرمہ کے پتھریلے اور چٹیل سہرا میں جاری کیاجو آج تک جاری وساری ہے ۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری آزمائشوں میں ڈالا ۔مگر حضرت ابراہیم ہر آزمائش میں صبر اور استقامت کا پہاڑ بن کر پورا اُترے۔حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل عطاء کیے پھر اللہ پاک نے اپنے محبوب کو حکم دیا حضرت اسماعیل ؑاور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ ؑعرب کی بے آبا گیاہ اور پتھریلی زمین پر تنہا چھوڑ آئیں ۔بظاہر تو یہ بے حد سخت حکم تھا ۔ لیکن حضرت ابراہیم ؑ نے رب کریم کے حکم پر اپنے شیر خوار بیٹے اور حضرت ہاجرہ ؑ کو صحرائے عرب میں تنہاء چھوڑا جب چھوڑ کر واپس آنے لگے تو اماں ہاجرہ نے آپ کو آواز دیکر پوچھا کہ آپ کہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں توحضرت ابراہیم ؑ نے اوپر آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ جس پر بیوی ہاجرہ ؑ گئیں کہ یہ حکم خداوندی ہے ۔

حضرت ہاجرہ گویا ہوئیں کہ ٹھیک اگر حکم خداوندی ہے تو ہمارا خدا ہمارے لیے بہترین فیصلہ کرے گا حضرت ابراہیمؑ چند کھجوریں اور پانی کا مشکیزہ حضرت ہاجرہ کے پاس چھوڑ ا اور خود واپس چلے گئے ۔ جب پانی اور کھجوریں ختم ہوگئیں اور تپتے صحرا کی گرمی تپش اور بھوک کیوجہ اسماعیل ؑ بھوک پیاس کیوجہ سے رونے لگے اور تلملانے لگے ۔جس پر بیوی ہاجرہ نے ان کیلئے پانی کیتلاش میں ادھر ادھر دورڑ لگانا شروع کی ۔اماں ہاجرہ ؑ پریشانی کے عالم میں کبھی صفا پہاڑی کی طرف دوڑتیں اور کبھی مروہ پہاڑی کی طرف اور کبھی آکر اپنےبچے کو دیکھ لیتیں پھر دوبارہ صفاء کے اوپر پانی کی تلاش کرتیں اسی طرح انہوں نے پہاڑیوں پر سات چکر لگائے ۔ بھوک پیاس کے عالم میں حضرت اسماعیل ؑ روتے روتے ازمین پر ایڑھیاں رگڑنے لگے ۔ جس جگہ ایڑھیاں رگڑ رہے تھے وہاں چشمہ جاری ہو گیا۔۔

About admin

Check Also

مجھے مالک ارض و سماء سے شرم آتی

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کا ایک مؤذن تھا جو قصر خلافت میں پانچ وقت اذان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com