Breaking News
Home / کہانیاں / ایک دن بازار گئی تو مجھے پیشاب آگیا میں نے واش روم کا دروازہ کھولا تو بولا

ایک دن بازار گئی تو مجھے پیشاب آگیا میں نے واش روم کا دروازہ کھولا تو بولا

میرا تعلق جہلم سےہے اپنے علاقے میں مناسب روزگار نہ ہونے کے سبب میں نے لاہور میں کرائے کی دکان لیکر کپڑے کا کاروبار شروع کیا دکان کے قریب ہی ایک کمرے کا چھوٹا سا مکان بھی کرائے پر لے لیا اس چھوٹے سے کمرے میں اکیلا ہی رہتا تھا ۔ جمعرات کی شام دکان ذرا دیر پہلے بند کرتا اور اپنے گھر اپنے بچوں میں چلا جاتا اور ہفتے کی صبح سیدھا دکان پر ہی آجاتا میں شادی شدہ ہوں میرے دو بچے بھی ہیں میری بیوی بھی بہت اچھی ہے میری والدین کی بہت اچھی خدمت کرتی ہے ۔انہیں کسی شکایت کا موقع نہیں دیتی اسی لیے گھر سے اپنے بچوں سے طویل دوری مجھے ناگوار نہیں گزرتی ۔میں نے دکان پر ایک ملازم بھی رکھا ہوا جو میرا ہاتھ بٹاتا ہے ۔ ایک صبح حسب معمول فجر کی نماز پڑھ کر میں اپنی دکان پر پہنچا تو دور سے مجھے دکان کے تھڑے پر سویا ہوا دکھائی دیا ۔ میں نے سوچا لو بھائی مجھے اسے جگانا بھی پڑے گا۔

یہ چرسی لوگ رات کے وقت جہاں دیکھتے ہیں سو جاتے ہیں اور صبح اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔قریب جاکر اسے جھنجھوڑنے کا ارادہ کیا کوئی فقیر کا موالی نہیں لگ رہا تھا اس نے قیمتی شال اوڑھ رکھی ہے ۔ یہ کوئی مسافر ہوگا جو رات اپنے علاقے کی گاڑی نہ ملنے کے سبب یہاں سو گیا ہوگا ۔ چند لمحوں میں بے شمار خیالات میرے دماغ میں آئے چلے گئے میں کب تک اس کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا دکان تو کھولنا ہی تھی ۔ میں نے اسے آواز دی اور کہا اُٹھو بھئی اپنا بستر کہیں اور لگاؤ مجھے دکان کھولنی ہے مسافر یا جوکوئی وہ تھا اس نے کروٹ بدلی اور اُٹھ بیٹھا اسے دیکھ کر میرے پسینے چھوٹ گئے وہ عورت تھی اور بے انتہاء خوبصورت جوان عورت میں نے گھبرا کر دائیں بائیں دیکھا دور دور تک کوئی بھی نہیں تھے ۔ سورج طلوع ہونے والا تھا اچھی خاصی روشنی پھیل چکی تھی اس روشنی میں اس عورت کا حسن جان لیوہ تھا ۔ہمارے آنکھیں چار ہوئیں تو میں نے گھبرا کر اس کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں میرا ملازم طاہر دیر سے آیا کرتا تھا طاہر کے آنے سے پہلے پہلے میں جھاڑ پونچھ کا کام خود ہی کرلیا کرتا تھا ۔یہ آپ کی دکان ہے اس نے سوال کیا میں نے ہمت کرکے دیکھا وہ مجھے دیکھ رہی تھی گول چہرہ بڑی آنکھیں حسن کی ملکہ اور دوپٹے سے سر اور پیشانی کو ڈھکا ہوا تھا

جی میری ہی ہے وہ مسکرانے لگی معافی چاہتی ہوں میں پوچھے بغیر آپکی دکان کے آگے سوگئی ۔ سنئیے اس مارکیٹ میں کوئی بیت الخلاء نہیں اس نے ٹکڑے میں بات کی ۔ تاہم جملہ پورے ہوئے بغیر میں بات سمجھ گیا یہاں قریب ہی سیڑھیاں ہیں ان کے نیچے بیت الخلاء ہے لیکن اس وقت وہ بند ہوگا پہلے کھلا رہتا تھا چرسی اور افہیمی آتے تھے اس لیے رات کو بند کردیا جاتا ہے ۔ جس کے پاس چابی ہوتی اس کی دکان نزدیک ہے نو بجے تک آجائیگا ۔ اس نے کہا میں کہاں جاؤں میں نے حیران ہوکر کہا کیونکہ میرے خیال میں اس کا یہ سوال بے تکا تھا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے تم اپنے گھر جاؤ گھر میری بات سن کر وہ ہنسنے لگی میرا کوئی گھر ہوتا تو ساری رات آپ کی دکان کے تھڑے پر نہیں گزارتی ۔مجھے اچانک ہی خیال آیا واقعے اس کا کوئی گھر ہوتا وہ میری دکان کے تھڑے پر نہ سوئی ہوئی پائی جاتی ۔

اچھا تمہارا کوئی گھر نہیں مجھے بھی تجسس تھا کہ آخر رات کے اندھیرے میں یہ عورت یہاں کیا کررہی تھی ۔ میرے ماں باپ فوت ہوچکے ہیں میرے دو بھائی ہیں شادی شدہ ہیں ان کی بیویاں مجھے نوکرانی سے زیادہ نہیں سمجھتی میں سارا دن انکے کام کرتی ہوں اور جب رات ہوتی ہے تو سب اپنے اپنے کمروں میں گھس جاتے ہیں میں صحن میں پڑی رہتی ہوں ۔ صحن میں ساری رات گزار دیتی ہوں۔ کوئی مجھے اپنے کمرے میں داخل نہیں ہونے دیتا۔بیچارے بھائی بھی مجبور ہوں پرائی عورتوں کے آگے یتیم سگی بہن کی بات سننے کی بھی فرصت نہیں۔ میں ان کو سوتا ہو ا چھوڑ آئی ہوں۔ میں نے پوچھا کہاں ہے تمہارے بھائیوں کا گھر کہنے لگی میں نے کہا نہ میں چھوڑ آئی ہوں اس کا مطلب یہی ہے میں چھوڑ آئی ہوں میں وہاں دوبارہ نہیں جانے جاتی ۔ مجھے اس وقت بیت الخلاء کی شدید ضرورت ہے میں نے جواب دیا کہ میں کیا کرسکتا ہوں یہاں اس وقت کوئی بندوبست نہیں ہے میں نے بتایا نہ جس دکاندار کے پاس بیت الخلاء کی چابی وہ نو بجے تک آجائیگا۔ اگر اس وقت آپ کو بیت الخلاء جانا پڑے تو کیا کریں گے میں نے کہا دیکھئے

About admin

Check Also

خبردار! زنا ایک قرض ہے، ایک شہزادی کا سچا واقعہ

السلام علیکم دوستو امید ہے کہ آپ ٹھیک ٹھاک ہونگے، دوستو آج کی ہماری تحریر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com