Breaking News
Home / آرٹیکلز / ایک ماں نے راتوں کو جاگ جاگ کر بیٹی کو مقابلے کا امتحان پاس کروا دیا

ایک ماں نے راتوں کو جاگ جاگ کر بیٹی کو مقابلے کا امتحان پاس کروا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) چند روز قبل جب محمد خالد کو اپنی بیٹی کی سی ایس ایس میں کامیابی کی اطلاع ملی تو انھیں وہ وقت یاد آگیا جب محدود وسائل ہونے کی بنا پر وہ ضلع مانسہرہ کے علاقے گڑھی حبیب اللہ سے ایبٹ آباد منتقل ہونے کا فیصلہ مشکل کر رہے تھے

اور جب انھوں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انھوں نے محمد خالد سے کہا کہ ’سب سے بڑی اور بہترین سرمایہ کاری بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت ہے، اس کے لیے جو کرنا پڑے کرنا۔‘صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے پہلی خاتون پولیس افسر بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی زینب خالد کے والد محمد خالد ایبٹ آباد کے ایک بینک میں فرسٹ افسر کی ملازمت کرتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں انھوں نے صرف اس وجہ سے ترقی کی آفرز کو کئی مرتبہ قبول نہیں کیا کیونکہ ترقی لینے کی صورت میں ان کا تبادلہ صوبے دور دراز کے علاقوں میں کر دیا جانا تھا اور اس وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔زینب خالد نے سی ایس ایس میں 188 ویں، صوبہ خیبر پختونخوا میں ساتویں اور لڑکیوں میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے پولیس سروس میں شمولیت اختیار کی ہے۔محمد خالد بتاتے ہیں کہ رشتہ دار کے مشورے کے بعد محدود ترین وسائل ہونے کے باوجود وہ ایبٹ آباد منتقل ہوئے اور پھر انھوں نے ناصرف مشکل وقت گزارا بلکہ اپنی زندگی کا مقصد ہی بچوں کو بہترین تعلیم و تربیت دینا بنا لیا۔’آج جب میری بیٹی پولیس افسر بنی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی بہترین سرمایہ کاری اپنے بچوں کی تعلیم پر کی ہے اور اس کا مجھے بہترین پھل ملا ہے۔ میں بیٹی کی کامیابی کے بعد اپنے رشتہ دار سے بھی ملا ہوں اور بروقت بہترین مشورہ دینے

پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔‘زینب خالد کہتی ہیں کہ ’مجھے اس مقام تک پہنچانے میں جہاں میری اپنی محنت شامل ہے وہاں پر میرے والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ میرے والد میری تعلیمی ضرورت کی ہر چیز پوری کرتے تھے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ جب میں پڑھ رہی ہوتی تو والدہ نے کبھی مجھے گھر کے کسی کام کے لیے اٹھایا ہو۔ میں رات جاگ کر پڑھتی تھی وہ وہ بھی ساری رات میرے ساتھ جاگتی تھیں کہ مجھے کسی بات کی پریشانی نہ ہو۔‘زینب خالد کا کہنا ہے کہ ’میرا بچپن گڑھی حبیب اللہ میں گزرا اور وہاں ہی کہ ایک پرائیوٹ سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی جس کے بعد ابو ہمارے تعلیم کی خاطر ایبٹ آباد منتقل ہوئے۔ ایبٹ آباد میں تعلیم کا معیار اور گڑھی حبیب اللہ کی تعلیم کے معیار میں کافی فرق تھا۔ تھوڑی سی مشکل کے بعد خود کو ایڈجسٹ کر کے میں ہر کلاس میں پہلی یا دوسری پوزیشن لیتی رہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ میٹرک امتحان میں وہ بورڈ میں ٹاپ ٹونٹی طلبا میں شامل تھیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں تو لڑکیوں کے پڑھنے اور کچھ کر گزرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ مگر گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ میں ابھی اس کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ میرین اقبال کے بعد اب میں اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے رول ماڈل بن سکتی ہوں۔‘زینب خالد کا کہنا تھا کہ ’میں پڑھائی تو کرتی ہی تھی مگر مجھے

غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کا بہت شوق تھا۔ میرے ابو ٹیلی وژن پر ٹاک شو دیکھا کرتے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھا کرتی تھی۔ جس سے مجھے اخبارات پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ڈان اور دیگر اخبارات کے بچوں کے صفحات سے اخبار بینی کا آغاز کیا تھا۔ جس کے بعد میرے گھر میں اس زمانے کے مشہور بچوں کے رسالے تعلیم و تربیت، کرن وغیرہ آنا شروع ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میری معلومات میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔‘زینب خالد کا کہنا تھا کہ گریجویشن کرنے کے بعد وہ قائد اعظم یونیورسٹی سے اینمل سائنسز میں ماسٹر کرنے چلی گئیں۔ ’وہاں پر اکثر اوقات کلاس میں سوشل سائنسز کے موضوعات پر بات ہوتی تھی۔ میں ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔‘’پہلے میرا خیال تھا کہ میں ایم فل کر کے سی ایس ایس کا امتحان دوں گئی۔ مگر وہاں پر میرے ایک استاد نے مجھے کہا میرے لیے یہ ایک بہترین وقت ہے کہ میں سی ایس ایس کا امتحان دوں اور اس میں کامیابی بھی حاصل کر لوں گی کیونکہ میرا جنرل نالج اچھا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میں سکول، کالج اور یونیورسٹی میں ہر موضوع پر نہ صرف بات کرتی تھی بلکہ استاد کے سامنے سوال بھی اٹھاتے تھی۔ سی ایس ایس کا اچھا انٹرویو ہونے کی وجہ میرے سوال کرنے اور بات کرنے کی عادت اور آرمی برن ہال کالج کا ایک واقعہ تھا۔‘زینب خالد کا کہنا تھا کہ ’کلاس کے اندر

ایک ٹیچر نے براہ راست مجھ سے سوال کیا کہ ایران، بلوچستان کا بارڈر کدھر ہے۔ ٹیچر نے شاید مجھ سے براہ راست سوال اس لیے کیا تھا کہ میں ہمیشہ جنرل نالج اور سوشل سائنسز پر بات کرتی تھی۔‘’ٹیچر کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ چمن۔ جس پر انھوں نے مجھے کہا کہ کیا بات کر رہی ہو۔ یہ تفتان بارڈر کی بات ہے۔ میں تو سمجھی تھی کہ اب ہم پھر تمھارا لیکچر سنیں گے۔ اس پر کلاس میں ایک قہقہ بھی لگا تھا۔‘زینب خالد کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد میں نے بلوچستان کے بارے میں مکمل معلومات اور اس کے جعرافیہ کو پڑھنا شروع کر دیا تھا کہ مجھے یہ بھی پتا ہونا چاہیے۔ اب قسمت دیکھیں کہ سی ایس ایس انٹرویو کی تیاری میں نے کچھ اور کی تھی۔ مگر انٹرویو میں مجھ سے پہلا سوال ہی بلوچستان کے حوالے سے ہوا تھا۔‘زینب خالد کا کہنا ہے کہ پولیس فورس میں شمولیت ان کے لیے ایک خواب ہے مگر انھیں معلوم ہے کہ اگلے مراحل زیادہ کھٹن اور مشکل ہیں۔’میں نے اس کے لیے خود کو تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ میں نے ابھی سے اپنی سینیئر خواتین پولیس افسران سے سیکھنا شروع کر دیا ہے کہ جب ضروری تربیت کے بعد میدان عمل میں اُتروں تو میں ہر امتحان کے لیے تیار ہوں۔‘’میرا یہ فیصلہ ہے کہ میں پولیس فورس میں کچھ کر کے دکھاؤں گی۔ کبھی بھی انصاف، میرٹ اور قانون کے خلاف نہیں چلوں گئیں۔ مظلوم کو انصاف فراہم کرنا اور لوگوں کی مدد کرنا میری اولین ترجیح ہو گی۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Share

About admin

Check Also

پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑا فوجی معاہدہ طے، پاکستان ٹینک خریدے گا رسو ل اللہ ﷺ کی پیش گوئی پوری ہوگئی، ہارون الرشیدکا حیران کن انکشاف

سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہےپاکستان اور ترکی کا بڑا فوجی معاہد ہو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com