Home / کہانیاں / ٹانگیں کانپ رہی تھی رکشے والا اس کو اتار کر وہاں سے چلا گیا

ٹانگیں کانپ رہی تھی رکشے والا اس کو اتار کر وہاں سے چلا گیا

تین دن سے ایک ان نون نمبر سے اسے مسلسل کالز آرہی تھیں۔ایسا نہیں تھا کہ وہ کوئی احتیاط پسند لڑکی تھی ۔ان نون نمبر پہ باتیں کرنا اس کا پرانہ مشغلہ تھا ۔مگر ابھی اس کا ایک نیا دوست بنا تھا تو وہ کیسے کسی انجان کے ساتھ روابط بڑھالیتی۔مگر اس نمبر کی پابندی سے آتی کالز کے ساتھ جب اسے ایک خوبصورت نظم مسج میں بھیجی گئ تو اسے پڑھ کر وہ رہ نہ سکی اور جواب میں لکھ ڈالابہت اعلی زبردست ریپلائی آیا اعلی لوگوں کے لیئے اعلی ہی لفظ استعمال کیئے جاتے ہیں

وہ خوشی سے کھل اٹھی اٹھلا کر پوچھا دوستی کی شرط لگائی ہے کسی سے یا ایسے ہی نمبر ملالیا دوستی تو ہوچکی ۔اس کے لیئے شرط ہی نہیں خلوص کی ضرورت ہوتی ہےاررے واہ ایسے کیسے دوستی ہوگئی میں تو آپکو جانتی بھی نہیں اس نے اپنی طرف سے تھوڑا فاصلہ رکھنے کی کوشش کی ورنہ اندر سے اسے بات کرنا اچھا لگ رہا تھا۔اگر دوستی نہ ہوتی تو میری نظم پہ واہ کے بجائے نمبر بلاک ہوتا ۔وہ چپ رہی ۔تھوڑی دیر بعد ایس ایم ایس آیا ۔میرا یہی نمبر واٹس ایپ پر ہے وہ فورا واٹس ایپ گئی تو ایک سنجیدہ مگر پرکشش لڑکے کی تصویر تھی اسے وہ اچھا لگا گر اسی وقت اسکے موجودہ بوائے فرینڈ کی کال آنے لگی ۔اس نے ریسیو کرکے کہاشونا تھوڑا بزی ہوں تھوڑی دیر میں بات کرتی ہوں اگلا واٹس ایپ اس انجان کو کیا یہ تصویر آپکی ہےجی آگے سے بس اتنا ہی جواب آیا۔وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اگلی کیا بات کرے کہ انجان کا واٹس آیپ آیا ۔عباد نام ہے میرااس نے جواب دیاحباءخیر یہ تو آپکا نام نہیں ہے پر مان لیتے ہیں وہ حیران ہوئی کہ اسے کیسے پتہ چلا تھوڑی پریشان بھی ہوئی کہ کوئی جاننے ولا تو نہیں۔میں کیسے یقین کرلوں کہ یہ نام یہ تصویر آپکی اپنی ہے یقین تو آپ کر چکی ہیں۔جب ہی تو مجھے بلاک نہیں کیااس نے پھر اعتماد سے جواب دیا۔اس پوری رات اس نے عباد سے باتیں کی اور صبح تک اپنی تصویر بمع اصلی نام جو صباء تھا وہ اسے بھیج چکی تھی۔

اتنی جلدی وہ کسی لڑکے کو نمبر نہیں دیتی تھی ۔گر عباد میں کچھ تھا کہ دل یقین کرنے کو چاہتا تھا ۔ایک ہفتہ اسی طرح واٹس ایپ پہ بات کرتے کرتے ان کی کال پہ بات شروع ہوگئی لیکن ہمیشہ کا عباد کرتا ۔کیونکہ جب وہ ملاتی نمبر ناٹ ریسپانڈنگ جاتا۔جب بھی یہ بات اس نے عباد کو کہی وہ کچھ نہ کچھ کہہ کر ٹال جاتا ۔پچھلے بوائے فرینڈ کو وہ بلاک کرچکی تھی۔اسے لگتا تھا شاید اسے اب کسی کی ضرورت نہ رہے ۔عباد میں کچھ خاص تھاایک دن صباء نے بہت بے تابی سے عباد سے ملنے کی خواہش کی ۔عباد کچھ دیر خاموش رہا پھر اس نے اسے ایک جگہ بتائی کہ وہاں مغرب کے بعد پہنچ جائے ۔صباء کو اندازہ ہوا کہ جگہ کچھ دور تھی اور شاید کوئی پارک ہو مگر مغرب کے وقت کون سا پارک کھلتا ہے۔شاید وہ اسے رش میں بلا کر بدنام نہ کرنا چاہتا ہو ۔اگلے دن وہ اپنی فرینڈ کا بہانہ کرکے گھر سے نکلی اور آٹو والے کو پتہ سمجھاہا تو وہ چونکا بی بی وہاں تو پرانا ق ب رستان ہے آپ اس وقت ق برستان جائیں گی ۔ارے چاچا آپ سے جو کہہ رہی ہوں وہ کریں۔آٹو والے نے اسے کسی ق برستان کے پاس اتار دیا انتہائی سنسان جگہ پہ ایک پرانا سا ق ب رستان تھا ۔وہ جگہ دیکھ کر ڈ۔ر گئی مگر عباد سے ملنے کی لگن اتنی حاوی تھی کہ اس نے جلدی سے کرایہ دیا اور آگے بڑھ گئی مگر ق برستان میں جانے کی اس کی ہمت نہ ہوئی۔

کچھ دیر اس نے انتظار کیا کہ شاید عباد اسے خود لینے آئے مگر اس کی کال آنے لگی ق برستان کے اندر آجاؤ کیا پاگل ہوگئے ہو اس وقت قب رستان میں ۔ تم ہو کہاں یہاں آو مجھے بہت ڈ۔ر لگ رہا ہےوہ اب شدید خوف میں مبتلا ہوچکی تھی میں کہہ رہا ہوں نا کچھ نہیں ہوگا اندر آو ۔اس بار اس نے تھوڑا رعب سے کہا وہ اس کی ناراضگی کے خوف سے اندر کی طرف بڑھی اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور ماتھے پر پسینہ آچکا تھا۔عباد اسے کال پہ گائیڈ کر رہا تھا ۔وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اسکی ہدایتیں سن کر جب ایک ق۔برکے پاس پہنچی تو عباد کی آواز آئی بس تم پہنچ گئی ہو یہیں رک جاؤ مگر تم کہاں ہو ۔وہ بس رو دینے کو تھی اس نے کپکپاتی آواز سے پوچھاتمہارے سامنے جو ق۔بر ہے میں وہیں ہوں۔وہ یہ بات سن کر لرز گئی۔اس نے سامنے واالی قب ر پہ لکھا نام پڑھا تو وہ پوری جان سے ہل گئ ق۔بر پہ لکھا تھا عباد الرحمن ولد شفیق الرحمن اور لکھی ہوئی تاریخ کے مطابق انتقال دو سال پہلے ہی ہوا تھا۔اسے لگا اس کا دل سینہ پ ھ ا ڑ کر باہر آجائے گا ۔اس نے سوچا تیزی سے دوڑ کر باہر نکلے اسی لمحے کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور وہ لہرا کر بے ہوش ہوگئی۔وہ جیسے کسی گہری نیند سے جاگ رہی ہو ۔جھینگروں کی آواز اس کی سماعت پہ بہت گراں گزر رہی تھی ۔اس سے آنکھیں کھولنا مشکل ہورہی تھیں۔اس نے سر دائیں بائیں پٹخا اور جب مشکل اسے آنکھ کھول پائی تو وہ رات کے اندھیرے میں کسی کچی زمین کے حصہ پے پڑی تھی ۔ہلکی زرد روشنی کسی دور لگے بلب کی اس کی آنکھوں پہ پڑی اس نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھا وہ زمین پہ ہاتھ جما کر اٹھ بیٹھی اور دوبارہ آنکھیں کھولیں تو ایک قب ر کے پاس بیٹھی تھی۔

اسے ایک دم سب یاد آیا ۔ عباد نے اسے یہاں بلایا تھا اور یہ ق۔بر وہ تیزی سے اٹھنے کے چکر میں ہلکان ہوگئی ۔اس کے اعصاب کمزور پڑ رہے تھے یہ کیسے ہوسکتا ہےیہ ق۔بر عباد کی کیسے ہوسکتی ہے ۔اگر وہ مرگیا تو پھر وہ کالز وہ شخص کون ہے۔ایک دم اسے موبائل یاد آیا مگر موبائل کہیں نہیں تھا۔اس نے چکراتے سر سے کچھ یاد کیا تو اسے یاد آیا کہ کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔اس نے مڑ کر ہر جگہ نگاہ ڈالی ۔اس کے بال بکھر چکے تھے۔کپڑوں پہ مٹی لگی تھی۔موبائل کا نام و نشان نہ تھا۔وہ یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔مگر دو قدم چل کر اس کے قدم منجمد ہوگئے۔عباد کے برابر میں ایک خالی ق بر تھی۔لیکن جس چیز کو دیکھ کر اس کی آنکھی پھٹیں اور دل باہر آنے لگا۔۔وہ اس خالی ق۔بر کے سرہانے لگے سنگ مرمر کے ٹکڑے پہ لکھا وہ نام تھا۔صباء حمید بنت حمید خان اور آج کی تاریخ درج تھی وہ ایک دم پلٹی مگر سامنے اندھیرے میں کوئی تھا جس نے اسے دھ ک ا دیا اور وہ سر کے ب ل ق۔برمیں جا گری ۔اس نے چ ی خ مار کر اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک دم بہت ساری مٹی اس کی آنکھوں اور کھلے منہ سے اندر گئی اس نے مٹی تھوک کر آنکھیں صاف کیں ۔دوبارہ کھولنے کی کوشش کی مگر مٹی بہت تیزی سے اس پہ گر رہی تھی ۔وہ منہ کھولتی مٹی اس کے منہ میں جانے لگتی ۔آنکھیں کھولتی تو مٹی آنکھوں میں جاتی وہ چیخ بھی نہیں پارہی تھی ۔

ہل بھی نہیں پارہی تھی مٹی کا بوجھ اس پہ بڑھتا جارہا تھابس چہرہ بچا تھا اور اب وہ بھی مٹی میں دب رہا تھااسکا دم گھٹ رہا تھا اور جیسے اس کی جان اس کے جسم سے نکل گئی ہو۔ہاسپٹل کے بیڈ پہ اس کا سر دائیں بائیں ہلتا دیکھ ۔نرس جلدی سے ڈاکٹر کو بلالائی ۔ڈاکٹرکے ساتھ اس کے بابا نے بھی اندر آنا چاہا مگر ڈاکٹر نے انہیں اجازت نہیں دی ۔اس کے بابا مما بھائی اور کچھ قریبی رشتہ دار سب آئی سی یو کے باہر تھے ۔صباء کو ہوش آگیا تھا ۔لیکن وہ اتنی ڈسٹرب تھی کہ ڈاکٹر نے اسے پھر سکون کی ادویات دے کر سلادیا تھا ۔بابا نے باقی لوگوں کو گھر بھیج دیا تھا لیکن مما نہ مانیں وہ جائے نماز بچھا کر شکرانے کے نوافل پڑھنے لگیں۔بابا بینچ پہ بیٹھے سوچ رہے تھے کہ جب انہوں نے 9 بجے صباء کا پوچھا تو اسکی مما نے کہا دوست کے گھر ہے ۔جس پہ بابا فکر مندہوئے یہ کون سا وقت ہے ۔مما بھی اندر اندر سے تو پریشان تھیں ۔بابا نے کہاکونسی دوست ہے کال کرو مما نے اس کی قریبی سہیلیوں کو کال کی تو سب نے منع کردیا کہ آنٹی صباء تو یہاں نہیں ہے۔اب دس بج چکے تھے اور سب گھر والے پریشان بیٹھے تھے ۔بھائی ہاسپٹلز دیکھ آیا تھا ۔اب صرف پولیس اسٹیشن جانا رہ گیا تھا۔مما کا رو رو کر برا حال تھا اس کا نمبر مسلسل بند جارہا تھااور پھر ساڑھے دس بجے بابا کے نمبر پہ کال آئی ۔کوئی رکشے والا تھا جس نے بتایا کہ ان کی بیٹی اس کے رکشے میں بے ہوش ہوگئی تھی اس کے موبائل سے نمبر لیا ہے اور وہ فلاں ہاسپٹل میں ایمرجنسی میں ہے۔جب وہ لوگ ہاسپٹل پہنچے تو رکشے والا وہاں موجود نہیں تھا اور اب اسکا نمبر بھی بند تھا۔نرس نے صباء کا موبائل انہیں دیا جو شاید بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند ہوچکا تھا۔

آپ لوگوں کو کہتا تھا ۔مگر میری کوئی سنتا ہی نہیں مہنگے مہنگے موبائل ۔اکیلی نکل جانا بہت ڈھیل دی تھی نا اب بھگتیں۔لوگ طرح طرح کی باتیں بنارہے ہیں۔ذیشان اور حیدر روز نائٹ ڈیوٹی کے لیئے ساتھ جاتے تھے ۔آج دیر ہونے کے سبب ذیشان نے اسے بائیک ق۔برستان والی روڈ پہ ڈالنے کو کہا ۔پراناق۔برستان آسیبی مشہور تھا اسلیئے یہ رستہ کوئی استعمال نہیں کرتا تھا ۔ہمیشہ حیدر ڈ۔رتا تھا اور ذیشان اس کا مذاق اڑاتا تھا ۔آج واقعی دیر ہوگئی ۔حیدر کو ماننا پڑی ۔جیسے ہی وہ دونوں ق۔برستان کے سامنے سے گزرے ذیشان نے اسے گاڑی روکنے کو کہا ابے پاگل ہوگیا کیا یہاں کہاں رکوارہاحیدر نے بائیک ہلکی کی مگر روکی نہیں۔ ابے میں کہہ رہا ہوں تو روک اس کے انداز پہ حیدر نے بائیک روکی تو اسے بھی گھٹی گھٹی چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔ذیشان تیزی سے بائیک سے اترا ۔حیدر نے اسے روکا مگر وہ نہ مانا اور ق برستان کے اندر بھاگا ۔حیدر اسے روکتے روکتے خود بھی اس کے پیچھے لپکا۔ان دونوں کے بھاگنے سے قب رستان میں شور اٹھا اور وہ جب چیخوں تک پہنچے تو ایک ادھ کھلی ق۔بر میں ایک لڑکی گھٹی گھٹی چیخیں مار رہی تھی ۔ذیشان اگے بڑھا مگر حیدر نے ہاتھ روکا ۔پر وہ نہیں رکا اور تیزی سے مٹی ہٹانے لگا۔مٹی ابھی لڑکی کے آدھے وجود پہ ہی پڑی تھی ۔حیدر اس کے ارادے دیکھ کر اس کی مدد کرنے لگا۔وہ لوگ لڑکی کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوچکے تھے ۔حیدر بھاگ کر بائیک پہ لٹکی پانی کی بوتل لے آیا لڑکی کے منہ پہ ڈالی اسے کلیاں کروائیں پھر لڑکی بے ہوش ہوگئی۔ایک لڑکی جس کا نام زینب تھا اور وہ ایک فیس بک گروپ کی مشہور رائٹر تھی پرانے قب رستان میں آدھ کھلی ق بر میں پائی گئی۔

دو راہگیروں نے بروقت ایمبولینس بلواکر اسے ہسپتال پہنچایا ۔بابا کی عادت تھی وہ با آواز بلند خبریں پڑھتے تھے ۔صباء اب کافی بہتر ہوگئی تھی۔وہ نارمل ہوتی جارہی تھی۔مگر اس وقت بابا کے منہ سے یہ خبر سن کر اس نے جھپٹ کر بابا سے اخبار لیا ۔اور اخبار میں دی گئی ق۔برستان اور وہ کھلی ق۔بر کی تصویریں دیکھ کر اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں ۔کھلی ق۔بر کے برابر میں بنیق۔بر پہ لکھا ہوا نام واضح پڑھا جاسکتا تھا۔صباء نے ضد پکڑلی کہ اسے اس لڑکی زینب سے ملنا ہے ۔حمید صاحب اسے ہاسپٹل لے گئے صباء نے زینب کے بھائی سہیل کو بتایا کہ وہ زینب کی فین ہے جو کہ سچ ہی تھا صباء بھی اس گروپ میں تھی جہاں زینب لکھا کرتی تھی۔زینب اب بہتر حالت میں تھی وہ بس بے ہوش ہوئی تھی ۔احتیاطا اس کا معدہ واش کردیا گیا تھا تاکہ جو بھی مٹی وغیرہ اندر گئی کو ہو وہ باقی نہ رہے۔صباء نے اس کی ہمت کو سراہا کہ وہ کتنے اعتماد سے بیٹھی ہوئی ہے جبکہ خود صباء کا تو نروس بریک ڈاؤن ہوگیا تھا۔تنہائی ملتے ہی صباء نے اپنا تعارف کروایا گروپ کا حوالہ دیا اور اپنے اور عباد کے بارے میں سب زینب کو بتادیا ۔زینب چونکی لیکن اس نے ظاہر نہ کیااور جب صباء نے رکشے والے چاچا کا ذکر کیا تو زینب اس بار اپنے تاثرات چھپا نہیں سکی ۔ وہ تو شکر ہے وہ چاچا اللہ کے نیک بندے تھے وہ وہیں رک گئے ہوں گے اور انہوں نے ہی مجھے ہسپتال پہنچایازینب کے ذہن کے پردے پہ وہ ہی رکشے والا ابھرا جو اسے ق۔برستان لے کر گیا تھااور اسے سمجھایا بھی تھا کہ وہ ق برستان نہ جائے۔لیکن اس نے بس صباء کا ہاتھ تھام کر اتنا کہادیکھو صباء ایک وقت آتا ہے

جب ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک ہوجاتا ہے میں امید کرتی ہوں کہ تم اب کبھی ایسی غلطی نہیں دہراؤگیصباء کو تھوڑا محسوس ہوا کہ یہ خود بھی تو اسی چکر میں وہاں گئی تھی اور مجھے سمجھارہی ہے خیر غلط بھی نہیں کہہ رہی وہ تو جب بھائی نے فون آن کیا تو وہ فارمیٹ ہوا وا تھا ۔۔کیا پتہ میں شاید اس سے دوبارہ کانٹیکٹ کرلیتی کچھ بھی ہوسکتا تھا۔صباء کو سوچ میں گم دیکھ کر زینب نے کہا “ایک نئی زندگی تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔اس نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا اللہ اس سے بدلہ لے گا ۔اس دن ان راہگیروں نے اللہ نے ہی بھیجا تھا اور وہ شور سن کر بھاگ گیا ۔اس کی سچائی جو بھی ہے جلد سب کے سامنے ہوگی ان شاء اللہ زینب کی سماعتوں میں وہ جھینگروں کی آواز ایک ہیولے کا خود پہ تیزی سے مٹی ڈالنا پھر قدموں کا شور اور اس کا بھاگ جانا سب گھوم گیا اس نے جھر جھری لی اور خود کو مضبوط کیا۔سہیل بھائی کے ساتھ پولیس انسپیکٹر اندر داخل ہوئے زینب نے صباء کو اشارہ کیا کہ تم اب جاؤ وہ نہیں چاہتی تھی کہ صباء کو اس کیس میں نہ گھسیٹا جائے۔اس آسیبی ق۔برستان کے اطراف سے تین اور لڑک یوں کی م س خ ش دہ ل اش ی ں مل چکی تھیں۔مگر ان کے گھر والے کسی قسم کی کاروائی میں شامل ہونے کو تیار نہیں تھے ۔یہ چوتھا واقعہ تھا جو زینب کی شکل میں سامنے آیا تھا اور اس بار اس علاقے کا انسپیکٹر بھی بدل چکا تھا وہ اس کیس میں خاص دلچسپی لے رہا تھا۔رائٹر گروپ میں ایک جوان شاعر ساحر نے دبنگ اینٹری ماری تھی ۔تمام شاعری کے دلداہ اس کے دیوانے تھے ۔بسمہ نے بھی گروپ کچھ ہی دن پہلے جوائن کیا تھا ۔وہ بہت شوخ چنچل اور حاضر جواب لڑکی تھی۔

ہر پوسٹ پہ مزے مزے کے کمنٹس دینا ۔خاص کر لڑکوں کی پوسٹ پروہ جوابی کمنٹس بہت انجوائے کرتی تھی اور جس سے زیادہ بات ہوتی اسے فرینڈ ریکیئوسٹ بھیج دیتی جب لڑکی خود ہی فرینڈ بننے کو تیار ہو تو اور کیا چاہیئے ۔گروپ میں اس کے فرینڈز بڑھتے جارہے تھے اور آرام سے اس کے واٹس ایپ تک بھی رسائی پاچکے تھے ۔وہ بہت اعتماد سے کمنٹس میں سب کے سامنے ہی کہہ دیتی تھی کہ میری ریکیئوسٹ ایکسیپٹ کریں پلیز کافی لوگ پیٹھ پیچھے اس پہ باتیں بناتے کہ کیسی لڑکی ہے لیکن اس کی شوخ چنچل فطرت کی وجہ سے مرد ہوں یا خواتین سب ہی اس کے سرکل میں شامل تھے ۔وہ شاعر ساحر کو بھی بہت کمنٹ کرتی مگر ساحر کی عادت تھی وہ کسی کے کمنٹ کا ریپلائی نہیں کرتا نہ ہی فرینڈ ریکیئوسٹ ایکسیپٹ کرتا بس ہر کمنٹ پہ انگوٹھے کا نشان لگا کر شکریہ ادا کردیا کرتا تھا۔بسمہ نے بارہا ساحر کو کمنٹس میں کہا کہ پلیز سر میری ریکیئوسٹ ایکسیپٹ کریں مگر وہ ان دیکھا کرجاتا۔اسے گروپ میں سے ہی ایک لڑکے حمزہ نے فرینڈ ریکیئوسٹ بھیجی اس نے ایسکیپٹ کرلی ۔کچھ دن بعد حمزہ سے اس کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی اور بات واٹس ایپ تک چلی گئی۔مگر واٹس ایپ پہ اسکا پروفائل نام عباد دیکھ کر اس نے سوال کیا تو حمزہ نے کہا یہی میرا اصلی نام ہے بہت خاص دوستوں کو پتہ ہے ۔وہ ابھی کسی سے چیٹ کر رہی تھی کہ عباد کی آتی کال دیکھ کر مسکرائی اور ریسیو کرکے ایک ادا سے کہاکیا حکم ہے میرے آقا۔آقا کنیز سے ملنا چاہتا ہے بسمہ بہت خوش ہوئی اور جواباً کہا میرے آقا بلائیں اور میں حاضر نہ ہوں ۔

آپ بس حکم کریں۔جوابا عباد نے جو اسے پتہ دیا وہ کوئی عجیب سی جگہ تھی ۔وہ اگلے دن وقت مقررہ پہ گھر سے نکلی دو رکشے والوں کو تو جگہ ہی سمجھ نہ آئی۔پھر ایک چاچا کا رکشہ کھڑا نظر آیا ۔چاچا نے پتہ دیکھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سمجھایابٹیا یہ تو پرانہ ق۔برستان ہے آپ اس وقت مغرب کے وقت کہاں جارہی ہیں اوہو چاچا آپ سے جتنا کہا ہے اتنا کریں پلیز وہ کہہ کر رکشے میں بیٹھ گئی اور ق۔برستان روانہ ہوگئی ۔رکشے والے چاچا نے بسمہ کو ق۔برستاں کے مین گیٹ پہ اتارا اور ہلکی رفتار سے رکشہ لے گئے۔بسمہ بالکل ویسی ہی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی جیسے سب لڑکیاں ہوتی تھیں ۔کچھ دیر بعد ویسے ہی عباد کی کال آئی اور اسی طرح بحث مباحثہ کے بعد بسمہ جب ق۔برکے رستے عباد کی ق۔بر تک پہنچی تو بالکل ویسے ہی اس کے تاثرات تھے جیسے اور لڑکیوں کے ہوتے ہیں اور جب اس نے پلٹ کر جانا چاہا ۔ویسے ہی ایک ہیولے کے دو ہاتھ اسکی طرف دھکا دینے کے لیئے بڑھے ۔مگر اچانک چار ہاتھوں نے اس ہیولے کو دبوچا اور تیسرے شخص نے اس کے منہ پہ ٹارچ کرتے ہوئے کہا ۔چل بے گورگن کی اولاد بہت ق۔بریں کھود لیں اب تیریق۔بر تھانے میں تیرا انتظار کر رہی ہےدونوں پولیس کانسٹیبل اس شخص کو دھکا دیتے ہوئے ق۔برستان سے باہر لائے ۔باہر پولیس کی دو گاڑیاں تھیں۔ایک میں اس شخص کو ہتھکڑی پہنا کر بٹھایا گیا اور دوسری میں بسمہ کو ۔زخموں سے چور جسم کے ساتھ وہ نیم بے ہوش تھا اور اسکی آنکھیں بند ہورہی تھیں کہ اس پہ بالٹی بھر کر پانی پھینکا گیا ۔جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولیں زرد بلب کی روشنی اسے تکلیف دینے لگی وہ چلایا بند کرو اسے مجھے اندھیرے میں رہنے دوانسپیکٹر نبیل نے اسکے بال مٹھی میں پکڑے اور دھاڑا ۔

بہت رہ لیا تو اندھیرے میں اب روشنی ڈال اپنے کرتوتوں پہ تو نے اتنی لڑکیوں کی زندگیاں کیوں خراب کیں۔بول نہیں تو دفناؤ تجھے بھی زندہ ق۔بر میں خراب کو میں کیا خراب کروں گا ۔آوارہ تھیںبد چلن بلکہ ہر عورت زندہ دفنانے کے قابل ہوتی ہے ۔سب کی سب وہ چلایا ۔نبیل نے ایک پن۔چ مارا اسکے دہانے سے خ۔ون آنے لگا تجھے پیدا کرنے والی بھی عورت تھی تیری ماں ۔تو کسی ق۔بر سے نہیں نکلا آخ تھو۔گالی ہے ماں گالی ہے میرے لیئےمیرا بس چلتا تو میں خود اسے زمین میں گ۔اڑتا لیکن میرے باپ نے م۔ار ڈالاوہ جنونی انداز میں ہنس رہا تھا اور ساتھ میں رو رہا تھا۔ایک حجاب میں لیڈی سائکٹرسٹ جو وہاں موجود تھی اس نے انسپیکٹر نبیل کو اشارہ کیا ۔انسپیکٹر نے کمرہ خالی کروایا اب صرف وہ سائیکٹرسٹ اور نبیل موجود تھے ۔کیوں م ارا تمہارے باپ نے اس عورت کودانستہ ڈاکٹر نے ماں کہنے سے اجتناب کیامیرے باپ کو دھوکہ دیتی تھی ۔گندی سی گالی دی میرے سامنے 8سال کے بچے کے سامنے اپنے یار سے ملتی تھی وہ اپنے حواس میں نہیں تھا ۔ کب سے ایسا کرتی تھی کیا وہ شروع سے ایسی تھی م ارتا تھا میرا باپ ن ش ے میں بھ وکا رکھتا تھا مجھے اور اسے پھر اس نے محلہ کے آدمی سے یارانہ کرلیا ہمارا پیٹ بھرتا رہا اور وہ ف ح اش ی پہ اتر آئی پھر گ ا لی دی دو دن میں اس مردہ عفریت کے پاس بیٹھا رہا ۔پھر اسکا آشنا آیا تو ل اش دیکھ کر پولیس لے آیا ۔میرے باپ کو اڈے سے پک ڑ لیا گیا اسے پھ ا ن سی ہوگئ۔ایک عورت نے برباد کردیا مجھے۔وہ پھر چی خ نے لگااور رونے لگاپھر کیا ہوا ۔شاباش ہمت کرو بتاؤ تم کہاں رہے میرا بد فطرت چاچا مجھے لے گیا ۔

چاچی مر چکی تھی ۔بس ایک بیٹی تھی اسکی کرن ۔چاچا مجھے غلاموں کی طرح رکھتا ۔م ارتا سب کام کرواتا۔پڑھایا بھی اسلیئے کہ میں اس کے کام آسکوںاور اپنی بیٹی سے میرا نکاح کردیا ۔سالی ایک اور گالی دی تو پڑھ کر تم اچھی زندگی گزار سکتے تھے۔جاب کرکے کرن کے ساتھ عزت کی زںدگی کو اہمیت کیوں نہیں دی عزت کہاں سے ملتی ہے عزت نفرت کرتی تھی وہ مجھ سے اس کے باپ کا غلام تھا میں ایک بزدل کمینہ تھا میں بھاگ گئی وہ میری بزدلی دیکھ کر تھوک گئی میرے چہرے پراب وہ چیخ چیخ کر مغلظات بک رہا تھا۔مگر تمہارے پاس تعلیم تھی۔ تم کیوں آگے نہ بڑھے ۔ مجھے کہیں نوکری نہیں ملی ۔سالے رشوت خور سب کے سب مریں گے جہنم میں میں رکشہ چلانے لگا اور پھر ایک دن کرن مجھے روڈ پہ کھڑی ملی میں نے رکشہ روکا ۔وہ مجھے دیکھ کر معافی مانگنے لگی پیروں میں گر گئی ۔اس کے ساتھ دھوکہ ہوا عزت بھی گئی۔میں نے اسے رکشے میں بٹھایااور اسی ق۔برستان میں لاکر گھسیٹتا ہوا لے گیا۔اس کے دوپٹے سے اسکے ہاتھ باندھے اور وہیں پڑے لوہے کے بانس سے گڑھا کھود کر اسے زندہ دفنادیا ۔ہا ہا ہا میں نے اپنی ماں کو دفنا دیا ۔میں نے کرن کو دفنادیا ہا ہا ہازندہ دفنادیا ۔کچھ دیر ڈاکٹر اسے خاموش گھورتی رہی ۔پھر اس نے کہا باقی لڑکیوں کا کیا قصور تھا۔ لڑکی ہونا قصور تھا ۔

اسلیئے م اردیاجو بھی عورت مرد کے سامنے اپنی عزت رولتی ہے اسے دفنادینا چاہیئے ۔صباء کو کیوں چھوڑ دیا تم نےوہ بے ہوش ہوگئی تھی اور میں اسے ت ڑپ تا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔اسی لیئے واپس لے گیا۔میں ہی بابا بن کر رکشہ چلاتا تھا۔لڑکی کو چھوڑ کر پیچھے والے گیٹ سے اندر اجاتا تھا ۔میں نے صباء کا موبائل بھی فارمیٹ کرکے دے دیا تاکہ دوبارہ رابطہ ہو میں کسی طرح دوبارہ بلاؤں اور ایسے ہی اذیت دوں اسے مگر اس (گالی) کا موبائل ہی بند تھاکیسے پتہ چلتا ہے تمہیں کہ کون لڑکی لڑکوں سے بات کرتی ہے ہاہاہا یہ جو سوشل میڈیا ہے نا کسی کو نہیں چھوڑتا سب پتہ چل جاتا ہے میں گروپس میں جاتا تھا کبھی شاعر بن کے کبھی مصنف بن کے اور سب پتہ چل جاتا تھا ۔مگر کبھی سوچا تم نے تمہارا اصل دشمن تمہارا باپ ہی تھا جو م ارتا تھا ماں کو اور تمہیں بھی بھوکا رکھتا تھا ۔تو دشمنی صرف عورت سے کیوں کیونکہ وہ میری ماں تھی وہ اتنی شدت سے دھاڑاکہ ایک لمحہ کو ڈاکٹر بھی ہل گئی۔ماں تھی وہ میری اب وہ رونے لگا۔میری ماں تھی۔اس عورت نے مجھ سے میری ماں چھین لی کسی کی رکھیل بن گئی ۔میں بھوکا ٹھیک تھا ۔باپ م ارتا وہ ٹھیک تھا ۔۔مگر میری ماں نے کیوں ماں میری ماں چاہئےمجھے میری ماں چاہیئے زخم ادھڑے تو ایک 8 سال کے بچے کا بین باہر آنے لگاجو اس نے دو دن اپنی ماں کی لاش کے پاس بیٹھ کر برداشت کیا تھاوہ چیخ رہا تھا ۔ماں کو پکار رہا تھا ۔نبیل اور ڈاکٹر اسے تاسف سے دیکھ رہے تھے ۔پھر ڈاکٹر نے اس کے بازو میں ایک انجیکشن لگایا اور وہ بے سدھ ہوگیا ۔

میں عباد الرحمن ولد شفیق الرحمن ہر عورت سے اپنی ماں کے بچھڑنے کا بدلا لینا چاہتا تھا اور زندہ دفن کرکے تڑپتا ہوا دیکھ کر میری تسکین ہوتی پھر میں اس لاش کو نکال کر اسے عبرت کا نشان بنا کر دنیا کے سامنے پھینک دیتا تھا ۔لیکن میں بھول گیا انصاف کرنے کا اختیار جس کے پاس ہے وہ سب دیکھ رہا ہے۔میں غلط تھا اور میرا انجام آپ کے سامنے ہےمیں صباء حمید بگڑے ہوئے معاشرے کی ایک تصویر ہم لڑکیاں جب اپنے والدین کی عزت کا جنازہ نکالتی ہیں تو ہم بھول جاتی ہیں کہ عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔میرے اللہ کا شکر ہے کہ میرے ولدین کی کوئی نیکی کام آئی اور میں بچ گئی شاید اسلیئے کہ مجھے زینب سے ملنا تھا ۔ اب میری پوری زندگی بھی شکرانے میں ادا ہو تو کم ہےمیں ڈاکٹر زینب جی ہاں میں ایک سائیکٹرسٹ ہوں ادبی گروپس میں شوقیہ لکھتی ہوں جب میری بات چیت عباد سے شروع ہوئی تو میں سمجھ گئی تھی کہ وہ ایک نفسیاتی مریض ہے اور اسی وجہ سے میں نے اس سے دوستی کا ڈرامہ کیا تاکہ میں اس کے قریب ہوکر اسکا علاج کر سکوں۔

دراصل ہماری زندگی میں بہت سے کردار اپنا اہنا اثر چھوڑتے ہیں ۔مگر جو ہمارے ذہن میں نقش ہوجائے وہ ہی ہماری پوری زندگی کا پیمانہ بن جاتا ہے جیسے عباد کا باپ بھی ظالم تھا جس کی وجہ سے اسکی ماں کو یہ سب کرنا پڑا۔اس کا چاچا بھی غلط رویہ رکھتا تھا جس کی وجہ سے وہ بزدل بن کر کرن کے سامنے آیا اور وہ اسے چھوڑ گئ۔کہنے کو رشوت خور نوکریاں بیچنے والے بھی اس کے مجرم ہوئے ۔لیکن اس نے چنا تو بس اپنی ماں کو ۔جب صباء میرے پاس آئی تو میں نے سوچ لیا تھا کہ اب کیا کرنا ہے اور انسپیکٹر نبیل کے ساتھ مل کر یہ سب کرنے میں کامیابی ملی ۔مگر ٹہریں ایک کردار سے اور ملیئےمیں انسپیکٹر علینہ عرف بسمہ۔بچپن سے مجھے ایڈوینچرز بہت پسند ہیں۔جب ڈاکٹر زینب نے سر نبیل سے اپنے پلان کا ذکر کیا تو میں نے فورا اپنی خدمات پیش کرنے کی آفر کی اور ہماری پوری ٹیم کی بھرپور کوششوں سے ہم یہاں تک پہنچے ۔جی ہاں ٹیم اس گروپ میں اکثر جن لڑکوں کو میں ببانگ دہل کمنٹ میں ہی دوستی کی آفر کرتی تھی وہ سب ہماری ٹیم تھی ٹیم کے علاوہ کوئی اور ہوتا ۔تو اسکے نمبر وغیرہ سے ہم جانچ پڑتال کرکے اسے بلاک کردیتے تھے اور بالآخر ہم عباد تک پہنچ ہی گئے۔ارے رکیں کسی رانگ نمبر سے کال آرہی میں زرا اسے بلیک لسٹ میں ڈال دوں۔

About admin

Check Also

پروفیسر کا غرور اور کسان کی عقلمندی٬ سبق آموز کہانی

ایک مرتبہ ایک پروفیسر اور کسان ایک ساتھ ریلوے سے سفر کررہے تھے۔ سفر کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com