Breaking News
Home / Other / حمل کے دوران خواتین کو متلی کیوں ہوتی ہے اور اس کو کیسے روکا جائے ؟

حمل کے دوران خواتین کو متلی کیوں ہوتی ہے اور اس کو کیسے روکا جائے ؟

حمل کے دوران خواتین کو متلی کی شکایت رہتی ہے اور یہ سب ہی خواتین کے ساتھ ہوتا ہے، کچھ کو صبح اٹھتے ہی متلی اور قے ہونے لگتی ہیں اور کچھ کو پورا دن ہی مختلف حصوں میں ہو جاتی ہے۔ کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ ان کو کھانوں کی مہک سے متلی آنے لگتی ہے۔جرمن ماہرینِ گائنیکالوجسٹس کہتے ہیں کہ: ” خواتین کو دورانِ حمل متلی آنے کی بڑی وجہ بیٹا ایف سی جی کی زیادتی ہوتی ہے

جو کہ ان کی استعمال شدہ خوراک کی وجہ سے بھی ہوتی ہے اور کچھ میں جسمانی کمزوری کی وجہ سے بھی ہو جاتی ہے۔” ڈاکٹر کرسٹیان آلبرِنگ بتاتے ہیں کہ: ” حاملہ خواتین اگر کھانا کم مقدار میں اور اسے اچھی طرح چبائیں، اس طرح خوراک اچھی طرح ہضم کر سکیں گی۔ کیونکہ اگر ٹھیک سے ہضم نہیں ہوگا تو بار بار متلی کی کیفیت اور قے کا امکان بہت زیادہ ہو جائے گا۔ ”میل آف ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ : ”حاملہ خواتین کے جسم میں ہارمونز کی مقدار بہت زیادہ پیداہونے لگتی ہے جس سے انہیں متلی اور قے آنا آتی ہے ۔ اور یہ اس لئے ہوتی ہے کیونکہ ان کے پیٹ میں موجود ننھی جان کو آکسیجن اور نشوونما فراہم ہو رہی ہے اور جسم سے فاضل مادوں کا بہتر اخراج ہورہا ہے۔”متلی کی شکار حاملہ خواتین کو دن بھر ایسی خوراک استعمال کرنی چاہیے جن میں گلوکوز اور نشاستہ یعنی کاربوہائیڈریٹ زیادہ ہوں جیسے انگور، شہد، چنے کی دال، ڈبل روٹی، پاستہ، چاول، سبزیاں، دہی، ڈیری

پراڈکٹس وغیرہ استعمال کریں۔ادرک، لیموں اور پودینے کو چبانے سے حمل کے دوران ہونے والے قے اور متلی جلد ختم ہو سکتی ہے جس سے نہ بچے کی صحت پر کوئی نقصان پڑے گا اور نہ ہی ماں کی طبیعت پر چونکہ ادرک اینٹٰ آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری ہے، جبکہ پودینے میں میتھا اور ہائبیڈائزنگ ایجنٹس پائے جاتے ہیں جو اینٹی متلی کا کام کرتے ہیں ۔ لیموں مدافعتی نظام کی مضبوطی کا کام کرتا ہے یوں یہ تمام چیزیں ان الٹیوں کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔

About admin

Check Also

دنیا کی نظروں میں قبضہ مافیاکہلانے والاتاجی کھوکھر درحقیقت ایک کیسا انسان تھا

اسلام آباد کی معروف کاروباری شخصیت امتیاز کھوکھر المعرو ف تاجی کھوکھر چند برس قبل …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com