Breaking News
Home / کہانیاں / وہ کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بو لی قبول ہے اس کو لگ رہا تھا

وہ کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بو لی قبول ہے اس کو لگ رہا تھا

چڑیوں کی چہچہانے کی آوازیں۔ سورج کی پہلی کرن شبنم پہ پڑنے سے پانی کے وہ قطرے جادوئی موتیوں کی طرح چمک رہے تھے بڑے بھائی کی شادی تھی گھر میں ہر طرف رونقیں تھیں اور اس گھر کا سب سے شرارتی لڑ کا جناب مسٹر حنان ہر کسی کی نظروں سے بچتے ہوئے بھاگ رہے تھے باگ کیوں رہے تھے یہ بھی بتا دیتا ہوں۔

جناب کو گھر کے کا م کرنے سے موت نہیں بلکہ تین چار موتیں ایک ساتھ پڑتی تھیں کام چور اتنا کچھ نہ پو چھو۔ مہندی سے کچھ دن پہلے سب لوگ دلہن کے گھر گئے تھے کچھ رسم نبھانے اور ساتھ حنان صاحب بھی زبردستی عورتوں کے ساتھ چل دیے حنان صاحب وہاں پہنچے تو دوڑتے ہوئے ہونے والی بھا بھی صاحبہ کے پاس چلے گئے بھا بھی جان آپ تو بالکل پری لگ رہی ہیں۔ حنان نے مذاق میں کہا بھا بھی نے مسکر ا کر کہا ہاں اپنے دیور کی طرح حنان کی ہونے والی بھا بھی سعدیہ جو بہت خوبصورت تھی یوں کہہ لو کے ایک محبت میں بنا ئی گئی ہو جیسے خوبصورت پری ہو حنان ہونے والی بھا بھی سے باتیں کر تا رہا کبھی شادی کے بعد کی پلا ننگ تو کبھی اپنے بڑے بھائی کے بارے میں بتاتا رہا بھائی کی یہ اچھی عادت ہے یہ بری عادت ہے حنان صاحب کی بھی ایک سب سے چھپا کر رکھی ہوئی مطلب چوری چوری والی خالہ کی بیٹی گرل فرینڈ تھی شادی پہ خالہ کی بیٹی بھی آئی تھی دونوں ایک دوسرے سے پیار تو کرتے تھے لیکن کہہ نہیں پاتے تھے۔ اشاروں اشاروں میں بہت کچھ کہہ دیتے ایک دوسرے کو لیکن جب بول کر کچھ کہنا پڑتا تو خاموش ہو جا یا کرتے تھے مہندی کی رات تھی۔

سب سج دھج کر مہندی کی تیار کر رہے تھے ہر طرف خوشیاں اپنی خوشبو بکھیر رہی تھی ہر طرف سمندر کی خاموش لہروں میں ایک دلکش سی روانگی تھی ادھر مہندی کی رسم نبھائی جا رہی تھی دوسری طرف حنان صاحب نے اپنی ساری کی ساری ہمت کر کے خالہ کی بیٹی کا ہاتھ پکڑ ا اور کہنے لگا افشاں میرے ساتھ شادی کرو گی لو جی اتنا کہنا تھا کہ سب کزنز جو کمرے میں چھپے بیٹھے تھے انہو ں نے شور مچا دیا بات مذاق مذاق میں بڑوں کو پتہ چلی تو سب نے کہا یہ بھی اچھا ہے ادھر بڑے بھائی کی شادی کر دیتے ہیں۔ یہاں ان دونوں کی منگنی حنان بہت خوش تھا اس کے دل کی دھڑ کنیں مل گئی تھیں بارات کا دن تھا سب بہت خوش تھے رات دیر سے سونے کی وجہ سے سب تھوڑا سالیٹ اٹھے تھے ہر طرف گلاب سجائے گئے تھے ہر چہرا ستاروں سا چمک رہا تھا بارات کا وقت ہوا لیکن دلہا کہیں مل نہیں رہا تھا سب کال کر رہے تھے لیکن نمبر بھی بند آرہا تھا سب پریشان ہو گئے بارات کا ٹائم ہو گیا لیکن دلہا ہے کہاں شام کے پانچ بج گئے لیکن د لہے کا کچھ بھی کسی کو بھی علم نہیں تھا کہاں ہے کہاں گیا اچا نک سے حنان کے مو با ئل پہ واٹس ایپ میسج آیا ۔ حنان میں تمہار ا بڑا بھائی بول رہا ہوں ابو سے کہنا میں یہ شادی نہیں کر سکتا مجھے معاف کر دینا۔

Share

About admin

Check Also

لیکن پھر بھی اس کا شوہر اچھا سلوک نہیں کرتا تھا

شادی تو بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی لیکن نصیبوں نے برباد کردیا تھا۔مہک کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com