Breaking News
Home / کہانیاں / ایک گاؤں میں کسی چوہدری کی شادی تھی ، میراثی بھی پہنچ گیا کہ اچھا کھانے کو ملے گا مگر

ایک گاؤں میں کسی چوہدری کی شادی تھی ، میراثی بھی پہنچ گیا کہ اچھا کھانے کو ملے گا مگر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بات شادی کی ہورہی تھی تو پنجاب کے کسی گاؤں میں چودھری کی شادی تھی، مراثی کو بھی دعوت ملی، وہ خوش خوش پہنچ گیا کہ گوشت کھانے کو ملے گا مگر جب کھانا پیش کیا گیا تو مراثی کے حصے میں فقط

شوربہ ہی آیا،بوٹی نہ ملی۔ مراثی نے پھرسالن مانگا تو دوبارہ اُس کی پلیٹ شوربے سے بھر دی گئی، دو تین مرتبہ جب ایسا ہی ہوا تو مراثی نے سالن کی پلیٹ پرے رکھی اور چودھری کے بیٹے کو آواز دے کر کہا۔۔ ’’پُتّر، ذرا ٹوتھ پِک دینا میرے دانتوں میں شوربہ پھنس گیا ہے۔‘‘۔۔وزن کم کرنا مردوں کے لیے آسان ہوتا ہے یا خواتین کے لیے؟ سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس سوال کا ایسا حیران کن جواب دے دیا ہے کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ یونیورسٹی آف گلاسگو اور یونیورسٹی آف نیوکاسل کے سائنسدانوں نے اس مشترکہ تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ مردوں کے لیے وزن کم کرنا خواتین کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جارج کا کہنا تھا کہ اگر مردوخواتین کو ایک جتنی کیلوریز کی حامل خوراک دی جائے تو مردوں کا وزن خواتین کی نسبت زیادہ تیزی سے کم ہوتا ہے۔اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 300سے زائد مردوخواتین پر تجربات کیے۔ ان لوگوں کو روزانہ 850کیلوریز کی حامل خوراک دی جاتی رہی۔ ایک سال بعد مردوں کے جسم کا 11فیصد وزن کم ہو چکا تھا جبکہ خواتین میں یہ شرح 8.4فیصد رہی تھی۔ یہ فرق آگے بھی موجود رہا اور دو سال بعد مرداپنے کل وزن کا 8.5فیصد کم کر چکے تھے جبکہ خواتین کا 6.9فیصد وزن کم ہوا تھا۔ڈاکٹر تھوم کا کہنا تھا کہ ’’اس تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ وزن کم کرنے کے معاملے میں جنس کا بھی اپنا ایک کردار ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ

مردوں کا قد خواتین سے لمبا ہوتا ہے اور ان کے مسلز بھی زیادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں زیادہ کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ جب انہیں خواتین کے برابر کیلوریز دی جاتی ہیں تو ان کا وزن زیادہ تیزی سے کم ہوتا ہے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔40 سال کی عمر میں زیادہ پڑھے لکھے اور کم پڑھے لکھے کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ تو کم تعلیم یافتہ افراد، کہیں زیادہ پیسے کماتے ہیں۔50 سال کی عمر میں بدصورتی اور خوبصورتی کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اپنے زمانے کے حسین ترین انسان کے چہرے پر بھی جھریاں نظر آنے لگتی ہیں۔۔60 سال کی عمر میں بڑے عہدے اور چھوٹے عہدے کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ سر پھرے بیوروکریٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد دفتر کا چپڑاسی چوکیدار بھی سلام نہیں کرتا۔۔70 سال کی عمر میں چھوٹے گھر اور بڑے گھر کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ گھٹنوں کی درد اور کمر کی تکلیف کی وجہ سے صرف بیٹھنے کی جگہ ہی تو چاہئیے۔۔80 سال کی عمر میں پیسے کی قدر و قیمت ختم ہوجاتی ہے۔ اگر اکائونٹ میں کروڑوں اور جیب میں لاکھوں روپے بھی ہوں، تو کونسا سکھ خریدلو گے؟90 سال کی عمر میں سونا اور جاگنا ایک برابر ہو جاتا ہے۔ جاگ کر بھی کیا قلع فتح کر لو گے؟۔۔ لہٰذا آج سے ہی اپنی زندگی کے ایک ایک پل کو اللہ کی رضا میں صرف کیجیے اور ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہیے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Share

About admin

Check Also

لیکن پھر بھی اس کا شوہر اچھا سلوک نہیں کرتا تھا

شادی تو بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی لیکن نصیبوں نے برباد کردیا تھا۔مہک کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com