Home / آرٹیکلز / میری ماں کیا کہے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

میری ماں کیا کہے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دوست نے ایک نہایت نفیس، ہدایت آمیز واقعہ واٹس ایپ پر بھیجا ہے اوروہ اتنا مفید ہے کہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا ایک فرض سمجھ رہا ہوں۔ واقعہ کچھ یوں ہے:دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے

چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے، اس کے بالکل پیچھے اسپین کا رَنر ایون فرنانڈیز دوڑ رہا تھا اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رُک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی کہ دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ہوئی۔ مطیع اس کی زبان نہیں سمجھتا تھااس لئے اسے بالکل سمجھ نہ آئی، یہ بہترین موقع تھا کہ فرنانڈیز اس سے آگے نکل کر دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کر فنش لائن سے پار کروا دیا۔ تماشائی اس اسپورٹس مین اسپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنانڈیز ہار کے بھی ہیرو بن چکا تھا۔ ایک صحافی نے بعد میں فرنانڈیز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا؟ فرنانڈیز نے جواب دیا ’’ میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اسلئے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے‘‘۔ صحافی نے پھر پوچھا! ’’مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا؟‘‘ فرنانڈیز نے جواب دیا ’’میں نے اسے جیتنے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی‘‘۔ صحافی نے اصرار کیا، مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے۔ فرنانڈیز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا ’’اس جیت کی کیا اہمیت ہوتی؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری ماں میرے بارے میں کیا سوچتی؟اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو کیا سکھانا چاہئے، بلاشبہ یہ کہ جیتنے کیلئے کوئی بھی ناجائز طریقہ اختیار نہیں کرنا، وہ آپ کی نظر میں جیت ہوسکتی ہے، دنیا کی نظر میں آپ کو بددیانت کے علاوہ کوئی خطاب نہیں ملے گا۔ حقیقت میں ابھی دنیا کے انسانوں کا اجتماعی شعوری لیول Infancy میں ہے، ابھی ہم ان نفرتوں سے اوپر نہیں اٹھ سکے کہ یہ ہمارے فرقے کا نہیں ہے، اس کا رنگ ہمارے جیسا نہیں ہے، یہ ہمارے جیسی زبان نہیں بولتا ، یہ ہمارے قبیلہ کا نہیں، یہ ہمارے شہر کا نہیں ہے، اس کا تعلق ہمارے صوبے سے نہیں ہے، اس کا تعلق ہمارے خطے سے نہیں ہے۔ حالانکہ 1400 سال پہلے پروردگار عالم نے دین کو پیغمبر اسلام کے ہاتھوں کمال تک پہنچایا اور اس میں اُن تمام نفرتوں کا ایک Pragmatic حل دیا ۔ یہ عملی مظاہرہ ہے کہ حضرت بلال حبشی رضی ﷲ کو جن کا بظاہر عربی تلفظ بھی صحیح نہیں تھا اسلام کے گلدستہ اذان پر پیغام اسلام پہنچانے کی ذمہ داری دےکر بتایا کہ ہمارا پیغام نہ زبان میں قید ہے نہ رنگ میں۔ سلمان فارسی رضی ﷲ کو اپنے سے قریب کرتے ہوئے کہا کہ سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہیں۔ یہ کہہ کر سلمان فارسی کو سلمان محمدی بنا دیا اور اس نعرے کی عملی تفسیر پیش کی کہ ہماری تعلیمات میں عربی اور عجمی النسل ہونا نہ فخر کی بات ہے اور نہ ذلت کی۔

About admin

Check Also

بوسہ بیوی کو اندر تک جھنجھوڑ دیتا ہے

میں دعوے سے کہتا ہوں رات سونے سے پہلے اگر بیوی کی پیشانی پر بوسہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com